. . شک پرست اِحباب کو میں ، قیس گو یہ کہہ تو دُوں! یہ غزل ’’کچھ‘‘ عام سی تھی ، پر مری مانے گا کون . . .


.
.
شک پرست اِحباب کو میں ، قیس گو یہ کہہ تو دُوں!
یہ غزل ’’کچھ‘‘ عام سی تھی ، پر مری مانے گا کون
.
.
.


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *