عرض ِ قیس

یہ ایک کتاب نہیں ہے۔


اور شاعری تو ہرگز نہیں ہے۔
یہ اُس شوخ ، پری زاد حُسن کی کہانی ہے جس کے شیریں لبوں پر ’’مَن دَر‘‘ اُکھڑنے تک تو رام رام رہا مگر پھر کمالِ بے نیازی سے ’’کہلوا ‘‘ دیا گیا: ’’حضور! حوریں دُنیا میں نہیں ملا کرتیں‘‘۔ یہ چلمن کے چنچل دورِ حکومت میں پیاسی نگاہوں کی من بیتی بھی ہے اور ذکرِ یار میں محو دھڑکنوں کامن و عن گوشوارہ بھی ؎

اُس نے کہا ، تھیں ہجر میں کُل کتنی دَھڑکنیں؟
میں نے حسابِ زیر و زَبر ، پیش کر دیا

یہ قصہ ہے تنِ تنہا بزم آرائی کی اس ناکام کوشش کا ، جس میں دن ڈھلے فوجِ تنہائی کو شکست دینے کے لیے ، شکستہ آئینوں کا ہجوم اکٹھا کیا گیا تو شب ڈھلے دائرہ وار شمعیں جلا کر گریۂ باجماعت کا اہتمام کیا گیا۔ ’’طاق‘‘ راتوں میں کبھی گجروں میں لفظ پرو کر بے چین دِل کو بہلایا گیا تو کبھی عکسِ یار سے گفتگو کی ’’سعی‘‘ کی گئی ؎
عکسِ لیلیٰ سے قیسؔ بات تو کر

عین ممکن ہے بات ہو جائے
یکم مئی 1994 سے شروع ہونے والی یہ ’’زنجیرِ خیال‘‘ کئی دہائیوں پر مشتمل ’’دُنیاوی بن باس‘‘ کی قسطِ اوّل ہے۔ ذرا تاخیر کی اگر پہلی وجہ تخلیقی ارتقاء کا زمانی بہاؤ کا محتاج ہونا ہے تو دوسری وجہ تنہائی چھن جانے کا خوف ہے۔ کیونکہ جس کا کُل اثاثہ ہی زندانِ ذات میں ’’خود ساختہ‘‘ عمر قید ہو ، اس کے لیے یہ کافی مہنگا سودا ہے ؎

ایک تنہائی ، دُوسری دَھڑکن
شاعری تیسری سہیلی ہے

پھر یہ بھی حل طلب تھا کہ سینے میں ’’امانتا‘‘ فراموش شدہ ان جذبات کو سپردِ خاک ہونا ہے یا سپردِ قلم۔ اور یہ فکر تو دامن گیر تھی ہی کہ شاعر کہلائے جانے کی پاکیزہ تہمت پر ان اصحابِ دانش کو کیا منہ دکھاؤں گا جو مجھے ’’کام کا آدمی‘‘ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ یوں ’’جب تک ہو سکا‘‘ اس ’’قِرطاسِ اَبیض‘‘ کی اشاعت ٹالی جاتی رہی ؎
داستانِ دردِ دِل ہے ، یہ اَلف لیلیٰ نہیں

قیسؔ! چھپوانے سے پہلے خیر خواہوں سے تو پوچھ
لیلیٰ نام کی بابت گزارش ہے کہ ایک تو قیس کی انتہائے نگارش کا اسم اعظم سوائے لیلیٰ کے اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ دوسرے یہ معمہ ابھی تک سمجھ سے باہر ہے کہ اس کلام کا ’’اصلی‘‘ خالق کون ہے۔ ایک جانب عشق میں ڈُوبا قلم ہے جو شب ہنگام ، نیم الہامی کے عالم میں ، دلکش ’’مگر‘‘ بے جان لفظی مورتیں تراش سکتا ہے تو دوسری طرف وہ سحر انگیز حسن ہے جس کا مہکتا خیال بھی اِن بتوں میں ’’رُوحِ شاعری‘‘ پھونک دینے پر قادر ہے۔ چونکہ رُوح نویدِ حیات اور جنبشِ ذات کی شرطِ اول ہے اس لیے یہ شعر ندائے دل معلوم ہوتا ہے کہ ؎

اِک حسینہؔ نے شعر لکھے ہیں
قیسؔ کا صرف نام چلتا ہے

لیلیٰ اس عالمِ ’’عالم‘‘ فراموشی کا نام بھی ہے جب حبیبِ ہجر ہونے پر خیالِ یار ، یار سے بھی پیارا لگنے لگتا ہے۔ حتی کہ کمالِ جستجو میں یہ تک بھول جاتا ہے کہ گول زمین پر آبلہ پائی کے اس دائروی سفر کا اصلی محور کون تھا۔ ایسے میں اگر کبھی کبھار ارتکازِ فکر ، شدتِ ہجر اور دائمی ذکر یکجا ہو کر بن طلب شمعِ باطن روشن کر دیں تو تعجب کیسا ؎
اِس قَدَر ڈُھونڈا تجھے رَب مل گیا

ہجر میں گزرا شباب اَچھا لگا
اگر کسی دوراہے پر اپنی اور محبوب کی خوشی میں سے کسی ایک کا انتخاب درپیش ہو تو سچے عاشقوں کے لیے یہ انتخاب تکلفِ محض ہے کیونکہ رہروانِ عشق کا یک نکاتی منشور محبوب کی خوشی میں سے کسی ’’ایک‘‘ کا انتخاب کرنا ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ جیسے خالص سونے کے کنگن اور سونے کا پانی چڑھے کنگن میں ذرا سی سان سیفرق معلوم ہو جاتا ہے ویسے ہی عاشقی اور دعویٔ عاشقی کا فرق بھی ایسے جاں گداز لمحات میںکھل کر سامنے آ جاتا ہے ؎

قیسؔ تھا لاجواب لیلیٰ بھی
جب سوال ایک کی بقاء کا تھا

لیلیٰ رت جگے کی اُن کروٹوں کا بیان بھی ہے جب زخم شماری ، اختر شماری سے بڑھ جانے کے باوجود کسی شوخ پر آنے والے پیار میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ ان شریر لمحوں کی داستان بھی ہے جب گاہک کی شدتِ طلب دیکھ کر رسد کو بالکل ہی روک لیا جاتا ہے اور نئی شرائط طے کرنے کے لیے تاریخ تک نہیں دی جاتی ؎
کہا: کوہِ ہمالہ میں رَواں کر دُوں جو جوئے شیر

کہا: وُہ شرطِ شیریں تھی ، کہیں دُشوار ہے لیلیٰ
لیلیٰبچپن کی دلچسپ شرارتیں یاد آنے پر بے اختیار مسکرا اٹھنے کا نام بھی ہے اور بزرگوں کی نصیحتیںدیر سے یاد آنے پر ہاتھ ملنے کا نام بھی۔ یہ اگر حُسن کا جامِ جم ہے تو عشق کا جام سَفال بھی ہے۔ اور یہ کبھی کبھی کسی پر احسان کرتے ہوئے زندگی میں ’’آخری‘‘ مرتبہ حیران ہونے کا نام بھی ہے ؎

اُس رُوپ کے ’’دِفاع‘‘ کے لیے قیسؔ ایک دن
میں ڈھال کو جھکا تو وہ شمشیر بن گئی

جہاں لیلیٰ کسی دلنشیں کٹاری کی سفاک خوبصورتی اور سفلی مسکراہٹ کی تسبیح ہے تو وہیں نویدِ محبت کی کھوکھلی وعید بھی ہے۔ یہ صنفِ حُسن سے صنفِ عشق پر بیتے دلچسپ ستم کا جگمگاتا نوحہ ہے۔ چنانچہ یہ ان لمحات کاقصہ بھی ہے جب غصہ ، اصولوں پر اتنا حاوی ہو جاتا ہے کہ آدمی فرد کا انتقام قوم سے لے کر تسکین محسوس کرتا ہے ؎
بے وَفا کا اُدھار نہ رکھا

قیسؔ ہم نے حسیں رُلائے بہت
یہ اُن قصہ گو زاہدوں کی داستان بھی ہے جن کے دِل کے چار خانے توحیدی دعوؤں کے باوجود سائنسی طور پر ثابت ہیں۔ عشقِ مجازی سے ’’بھی‘‘ بے بہرہ لوگ عشق حقیقی کے دعوے دار بن بیٹھیں تو میاں ہم مجنوں ہی بھلے۔ تاہم دیوانہ ہو یا فرزانہ ، واعظِ شہر سے سب کو بنا کر رکھنی ہی پڑتی ہے کہ ؎

اِن کے پاس آتے ہیں توبہ کو حسیں چہرے بھی
واعظِ شہر سے تا عمر بنا کر رکھنا

تسلیم کہ آج کل سائے سے گفتگو کوئی بھی پہنچا ہوا فرد کر لیتا ہے لیکن پرچھائیوں کے کاندھے پر سر رکھ کر روتے روتے غش کھا جانے کو غالبا کچھ زیادہ جنون درکار ہے۔ دانشوری پر مُصر عزیزوں سے التماس ہے کہ مجنوں پر تہمتِ دیوانگی باندھنے سے پیشتر ، احتیاطا ، اک نظر لیلیٰ کو بھی دیکھ لیں۔ ہو سکتا ہے اس مرتبہ صبر کا پھل اور دیکھنے والوں کا دِل دونوں ہی چھری کی زد میں آ جائیں ؎
لیلیٰ کو دیکھ لو تو سمجھو گے

قیسؔ کیوں لیلیٰ ، لیلیٰ کرتا ہے
پھر اگر جنون کی امان ملے تو خواہشِ دیدِ لیلیٰ رکھنے والوں عقلمندوں سے مجنوں یہ پوچھنے کی جسارت بھی کرے کہ کیا آپ لیلیٰ کو انہی آنکھوں سے دیکھیں گے جو محض قبول صورت چہرے دیکھنے کی عادی ترین ہو چکی ہیں؟ کسے خبر کہ دیدِ لیلیٰ کے لیے ’’کم سے کم‘‘ دیدۂ قیس درکار ہو ؎

نگاہِ قیسؔ سے دیکھو ہمیشہ لیلیٰ کو
صنم کسی کا بھی ہو ، بے مثال ہوتا ہے

اور ہاں عین ممکن ہے کہ حُسنِ لیلیٰ ، لیلیٰ کا حُسن نہ ہو بلکہ مجنوں کے شوقِ دیدار کا خورشید حُسنِ لیلیٰ کے آئینے میں سے منعکس ہوتا ہو۔ایسے میں تو لیلیٰ صرف اُسی کو نظر آئے گی جو خود مجنوں ہو۔ چنانچہ بعید نہیں کہ باہر لیلیٰ ڈھونڈنے کی بجائے اپنے اندر مجنوں کو تلاشنا ، تراشنا اور پال پوس کر جنونی بنانا ہی رُوحِ خِرد ہو۔
اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا۔ میں اپنے ویب سائٹ پر آپ کے ایک ایک تبصرے کا خود مطالعہ کروں گا۔ آپ کی رائے اور محبت ہی میرا کل اثاثہ ہے۔ خوش رہیے
شہزاد قیسؔ

ShahzadQais