شیرازۂ وُجود و بقا ذِکرِ مصطفےٰؐ

شیرازۂ وُجود و بقا ذِکرِ مصطفےٰؐ
چھُو پائے گی نہ جس کو قضا ذِکرِ مصطفےٰؐ

اِس پر بھی پیار آتا ہے پروردِگار پر
کرتا ہے ہم سے بڑھ کے خدا ذِکرِ مصطفےٰؐ

مرہم طرح طرح کے بنے تن کے واسطے
من کے ہر ایک غم کی دَوا ذِکرِ مصطفےٰؐ

دیکھا ہے جب سے ذِکرِ خدا میں مگن اُنہیں
کرتی ہے تب سے غارِ حرا ذِکرِ مصطفےٰؐ

اِحمدؐ کا ذِکرِ کرنا بھی نعمت ہے ، رِزق ہے
وَرنہ کہاں ہم اور کجا ذِکرِ مصطفےٰؐ

پوچھا گناہ گاروں نے کیسے ملا مقام
ہر جنتی نے ہنس کے کہا ذِکرِ مصطفےٰؐ

اِک نُور کی لکیر گئی قیسؔ عرش تک
دِل کے حرم میں جب بھی ہُوا ذِکرِ مصطفےٰؐ
#شہزادقیس
.