نجات اور بخشش کے زینے سلام

نجات اور بخشش کے زینے سلام
اے روزوں کے دِلکش مہینے سلام

دُھلی ہیں نگاہیں گنہ گار کی
ہِدایت کے روشن نگینے سلام

سبھی یکساں بھوکے ، غنی یا غریب
اُخوت کے اَعلیٰ قرینے سلام

نظر میں حیا ہے تو دِل موم تر
تقدس بھرے آبگینے سلام

ہر اِک متقی کو مسلسل کہیں
بہشتی گھروں کے خزینے سلام

عبادَت کو لگ جائیں حق چار چاند
اَگر جا کے بھیجیں مدینے سلام

فضیلت کی شب قیسؔ پا لیں اَگر
کریں گے ہزاروں مہینے سلام
#شہزادقیس
.

نبیؐ کی یاد دَھڑکن ہے ہمارا دِل مدینہ ہے

نبیؐ کی یاد دَھڑکن ہے ہمارا دِل مدینہ ہے
جہاں اِحمدؐ کے عاشق ہوں وُہی محفل مدینہ ہے

مدینہ علم و عرفاں ، آگہی ، اَنوار کا مرکز
وُہ اِنسان اَصل اِنساں ہے جسے حاصل مدینہ ہے

حُضورؐ اُمّت کی خاطر رات بھر روتے تھے سجدوں میں
جہنم اور ہمارے بیچ بس حائل مدینہ ہے

جس کو بھی اِسمِ محمدؐ سے حیا آتی ہے

جس کو بھی اِسمِ محمدؐ سے حیا آتی ہے
حشر میں اُس کے لیے سبز قبا آتی ہے

کچھ فرشتے بھی جماعت میں نظر آتے ہیں
جب تصور میں مرے غارِ حرا آتی ہے

ایک ماحول سا بن جاتا ہے رِندوں کے لیے
جب بھی جنت میں مدینے کی ہَوا آتی ہے

تیرنے لگتے ہیں بہتی ہُوئی نہروں میں چراغ

شیرازۂ وُجود و بقا ذِکرِ مصطفےٰؐ

شیرازۂ وُجود و بقا ذِکرِ مصطفےٰؐ
چھُو پائے گی نہ جس کو قضا ذِکرِ مصطفےٰؐ

اِس پر بھی پیار آتا ہے پروردِگار پر
کرتا ہے ہم سے بڑھ کے خدا ذِکرِ مصطفےٰؐ

مرہم طرح طرح کے بنے تن کے واسطے
من کے ہر ایک غم کی دَوا ذِکرِ مصطفےٰؐ

دیکھا ہے جب سے ذِکرِ خدا میں مگن اُنہیں

خلوص ، علم ، دُعا ، آگہی کے سائے میں

خلوص ، علم ، دُعا ، آگہی کے سائے میں
حیات گزرے تو گزرے نبیؐ کے سائے میں

اَمین ، متقی ، خدمت گزارِ نوعِ بشر
ستارے لاکھوں پلے آپؐ ہی کے سائے میں

وُہ تم سے لاکھ لگیں پر تمہارے جیسے نہیں
ثبوت تم کو ملے گا تمہی کے سائے میں

بشیرؐ ، نورؐ ، محمدؐ کی چھاؤں میں آؤ
کلیمؐ ، اُمّیؐ ، مدثرؐ ، قویؐ کے سائے میں

خراج دیتے ہیں جن کو اَدَب سے شاہِ جہاں
فقیر ایسے پلے ہیں اُنہی کے سائے میں

بلال تیرا بلاتا ہے یوں خدا کی طرف
کہ جیسے جگنو اَذاں دے کلی کے سائے میں