خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ

خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ
تابندہ ستارے سَرِ دِہلیز خمیدہ

خامہ بنیں اَشجار یا اَبحار سیاہی
مرقوم نہ ہو پائیں گے اَوصافِ حمیدہ

ہر قلب کہاں فیض تری نعت کا پائے
ہر ذِہن کہاں عشق میں آہُوئے رَمیدہ

آقا تری رَحمت کے سمندر پہ نظر ہے
اَعمال میں سستی ہے مگر پختہ عقیدہ

یعنی میں مدینہ کی فَضاؤں میں کھڑا ہُوں !
حیران ہیں اَفکار تو نمناک ہے دیدہ

گُل آپؐ کی خاطر چنے با عرقِ ندامت
شبنم سے شرابور ہیں گُل ہائے چُنیدہ

یہ کہہ کے قلم قیسؔ مرا تتلی نے چوما
خوش بخت ہو لکھتے ہو محمدؐ کا قصیدہ
#شہزادقیس
.