سو گنا گر حیات ہو جائے

سو گنا گر حیات ہو جائے
کھُل کے اِک تِل پہ بات ہو جائے

دِل کسی کھیل میں نہیں لگتا
جب محبت میں مات ہو جائے

ایک دیوی کی آنکھ ایسے لگی
جیسے مندر میں رات ہو جائے

کتنے بیمارِ عشق بچ جائیں !
حُسن پر گَر زَکات ہو جائے

بُت شِکن کیا بگاڑ سکتا ہے ؟
دِل اَگر سومنات ہو جائے

آپ دِل چور ہو ، ہم اِہلِ دِل
وَقت دو ، واردات ہو جائے

گُل میں خوشبو نہ ہو وَفا کی قیسؔ
پنکھڑی بے ثبات ہو جائے
شہزاد قیس