اِذنِ رَبی سے جام چلتا ہے

اِذنِ رَبی سے جام چلتا ہے
حَشر تک اِہتمام چلتا ہے


جام سے پہلے جام چکھتے ہیں
جام کے بعد جام چلتا ہے


ساتھ اُن کے کنیز آئے گی
ساتھ میرے غلام چلتا ہے


ہرنیاں اُس پہ ناز کرتی ہیں
آہ ! کیا خوش خرام چلتا ہے


دُنیا میں اور کچھ چلے نہ چلے
حُسن کا اِحترام چلتا ہے


حُسن دَھڑکن ہے رازِ ہستی کی
یہ چلے تو نظام چلتا ہے


اِک حسینہؔ نے شعر لکھے ہیں !
قیسؔ کا صرف نام چلتا ہے
شہزادقیس