01/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

بات کب آج شعر شار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

آج کے آج ہی بنیں شاعر
پیشکش اَپنے کاروبار کی ہے

’’ ٹرن کی ‘‘ سسٹموں کا دور ہے یہ
کچھ کمی ہے تو اِشتہار کی ہے

پیشہ وَر ہیں سو مل کے لکھی کتاب
اِک غزل میری ، اِک فگار کی ہے

بوڑھے لوہار کو بتائے کوئی
ضرب مہنگی فقط سنار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up