جو حُسن جسم سے چھَلکا ، اُسی سے پھول بنے

جو حُسن جسم سے چھَلکا ، اُسی سے پھول بنے
ذِرا حساب لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

ذِرا سا بوسے پہ مائل ہُوا تو سارے گلاب
نفی میں سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گلابی اِتنا ہے کہ اُس کو شاہ سُرخ گُلاب
’’اَبُو گُلاب‘‘ بلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

مہکتے پھولوں کی حسرت ہے زُلف مل جائے
تعلقات لڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

کہا جو مالی سے گُل دو جو اُس کے لائق ہو
تو بولا ہوش میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

چمن سے ہو کے چلا جائے ، باقی بچتی ہیں
بہت اُداس ہَوائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گلی سے رات کو مِرّیخ کے وَزیرِ معاش
اُتارے گجرے چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up