جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی

جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی
وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

مگن تھے مینہ کی دُعا میں سبھی کہ وُہ گزرا
بدل دیں سب کی دُعائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

ستارے توڑ کے لانے کی کیا ضرورت ہے
ستارے دوڑ کے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

ہم اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا نہیں سکتے
گلے سے کیسے لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جتنا جسم تھا ، اُتنا غزل میں ڈھال لیا
طلسم کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

غلام بھیجتا ، سر آنکھوں پر بٹھا لیتے
اُسے کہاں پہ بٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

زَبان وَصف سے عاجز ، حُروف مفلس تر
قلم گھسیٹ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up