جو اُس کو چومنا چاہیں ، اَگر وُہ چومنے دے

جو اُس کو چومنا چاہیں ، اَگر وُہ چومنے دے
تو چوم پھر بھی نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جو بالمشافہ ملیں ، سر جھٹک کے قصۂ شب
بطورِ خواب سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

سمندر اُس کے قدم چومنے کو آگے بڑھیں
جوار بھاٹے تب آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

صنم کے سامنے صاحب ، سخن تو دُور کی بات!
یہ دِل دَھڑکنے نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

شبیہ سائے کی اُس کے جو خواب میں دیکھیں
وُہ گھر کبھی نہ بسائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

غزل سے آپ کو اَندازہ ہو گیا ہو گا
نہیں تو ۔ ۔ ۔ میں جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

(نوٹ: خالی جگہ میں باغ پڑھا جائے۔ شکریہ)
جو جان اَٹکے کسی عاشقی میں بسمل کی

تو اُس کا قصہ سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up