کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے بھیگے لب اُس کے

کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے بھیگے لب اُس کے
ہَوا میں شہد ملائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

خیال میں بھی کوئی لب پہ اُنگلی پھیرے تو
دَھنستے سے نظر آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا
یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ پھونک مارے تو سب گہرا سانس لیتے ہیں
کئی تو ہونٹ چبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

لبوں کی دِلکشی یاقوتِ سُرخ پر بھاری
کہ یہ تو آگ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

کلی کے کان میں دے کر اَذان خوشبو کی
لبوں کا کلمہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جو اُنگلی رَکھ کے لبوں پر اِشارہ چپ کا کرے
تو پھول سکتے میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up