ہمیں مبالغے کی کیا پڑی ہے ، لو صاحب!

ہمیں مبالغے کی کیا پڑی ہے ، لو صاحب!
ہم آنکھوں دیکھا بتائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

غزل میں آئے تو مصرعے سلام کرتے ہیں
حروف ہار بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جنہوں نے دیکھا نہیں اُس کو ، شاعری نہ کریں
یا مجھ سے سیکھ کے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

سرہانے میرؔ کے ٹُک فاتحہ کو گر وُہ جھکے
تو میرؔ بول نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

غزل جو پڑھ کے سنائی ، کہا تمہارے رَقیب
یہ منہ زَبانی سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

غزل کا پوچھے جو اِنعام ، دَست بستہ کہوں
بس اَپنا نام بتائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جو اُس پہ لکھی غزل پڑھ کے مر گیا اُس کا
جنازہ میرؔ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up