رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو

رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو
رِیاضی بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

کہے جو فرض کریں ایکس ، وائے سے ہے بڑا
سب ایکس جشن منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جذر بھی لے لیں اَگر دِلکشی کا دِلبر کی
جواب گن نہیں پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جو اُس کا مجنوں بنے ، اَرشمیدس اُس کو کہے
مجھے رِیاضی پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

صفر ، صفر ہے فقط اِس لیے کہ کر نہ سکا
شمار اُس کی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

کمالِ حُسن کو ہم دو سے ضرب دیتے مگر
عدد کہاں سے منگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

رِیاضی میں جہاں ’’بے اِنتہا‘‘ بتانا ہو
دو آنکھیں اُس کی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up