جناب عشق نہ ہو جائے پڑھتے پڑھتے غزل

جناب عشق نہ ہو جائے پڑھتے پڑھتے غزل
مزید آگے نہ جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گلاب چومتے ہیں صرف ہاتھ بھر زُلفیں
لباس موج منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

حجاب اُتارے ، ملے ترکِ مے کشی کا ثواب
کہ رِند جام گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

چناب اُس کے اِشارے سے ہو گیا دو نیم
گھڑے کو آگ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نصاب میں ہُوا شامل جو حُسن پر اِک باب
تو سال بھر یہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نقاب اُٹھائے تو سورج کا دِن نکلتا ہے
چراغ دیکھ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

جواب اِس لیے دیتا نہیں سلام کا وُہ
کہ لوگ مر ہی نہ جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up