چڑھے جو قرب کی خوشبو تو گُل رہیں تازہ

چڑھے جو قرب کی خوشبو تو گُل رہیں تازہ
مہینے بیتتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ چُومے خشک لبوں سے جو شبنمِ گُل کو
تو پھول پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گُلاب ، موتیا ، چنبیلی ، یاسمین ، کنول
اُسے اَدا سے لُبھائیں ، وُہ اتنا دلکش ہے

گُلاب ، مشکِ ختن ، زَعفران ، تر ، لوبان
بدن کو سونگھتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گُلاب کاغذی ہاتھوں میں خوشبو دینے لگیں
کئی تو اُگتے بھی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

پڑھا کے تتلی کو اُس کا ترانہ بولی بہار
پروں پہ لکھ کے یہ لائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

گُلاب گھر سے ہی ہاتھوں میں لے کے نکلا کہ
گُلاب آتے نہ جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up