نظر جھکائے تو پاکیزگی طواف کرے

نظر جھکائے تو پاکیزگی طواف کرے
اُجالے پھول چڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر اُٹھائے تو خوشبو کی بجلیاں کڑکیں
مہک سی جائیں ، فضائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر اُٹھا کے جھکائے تو رُوح قبض کرے
حیا پہ صدقے رِدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر جھکا کے اُٹھائے تو ناگ ششدر و گُم
فُسوں کو توڑ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر ملائے تو ہم جیسے سات پشتوں تک
نظر کا قرض چکائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر ملا کے ہٹائے تو قلب چلنے لگے
پسینے چھوٹتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

نظر ہٹا کے ملائے تو ہوش اُڑ جائیں
جنون اَدائیں سکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up