وُہ جس کے آنے کی خوشبو منادی کرتی ہے

وُہ جس کے آنے کی خوشبو منادی کرتی ہے
بِگُل گلاب بجائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کی روشنی میں راہ بھانپ کر جگنو
جہاں کو راہ دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کی یاد سے سوچوں میں چاند کھِلتے ہیں
وُہ جس کے گُن سبھی گائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کے ہونے سے ’’ مادہ پرست ‘‘ ہیں ہم تم
وُہ جس کو پھول لُبھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کی جلد کو چھونا ہے عید شبنم کی
وُہ جس کو تارے ستائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کا ریشمی آنچل بہار کے فوجی
عَلَم بنا کے اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے

وُہ جس کی خوشبو کو خوشبو سلام کرتی ہے
وُہ جس کو غنچے منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
#شہزادقیس
.

Sign Up