حسین باتوں کا کب اِنتقال ہوتا ہے

حسین باتوں کا کب اِنتقال ہوتا ہے
جو شعر دِل سے لکھو لازَوال ہوتا ہے

حقیقی شاعری حق الیقیں سے ہوتی ہے
تلاشِ فکر سے بس قیل و قال ہوتا ہے

ہمارے جیسوں کو دُنیا سمجھتی ہے شاعر
جب اِہلِ شعر کا قحط الرِجال ہوتا ہے

بنا عطا کے بڑے بھائی کچھ نہیں ملتا
کرم کی شرط پہ کسبِ کمال ہوتا ہے

جہانِ شعر کو صاحب خیالی مت جانو
کہ کُن سے پہلے سبھی کچھ خیال ہوتا ہے

صنم تراش سے کہہ دو خلوص کم کر دے
خدا پرستوں کا جینا مُحال ہوتا ہے

بضد ہیں حضرتِ واعظ تو ، توبہ کر لو قیسؔ