09/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

نام شام اَپنا خود اُٹھا لیجے
خود کو خود کاندھے پر بٹھا لیجے

گھر میں ، گیراج میں یا باہر ہی
عالمی اَنجمن بنا لیجے

میر و غالب وَغیرہ سے منسوب
اُردُو ایوارڈ بھی چلا لیجے

سر کے بل آنے کو ہیں راضی اَدیب
بات جو مانے وُہ بلا لیجے

اِک ٹکٹ ، چند نوٹ ہیں لازِم
یا طلب بسترے کی ، کار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

08/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

میرا اِک بھانجا بھی صحافی ہے
فون ہی میرا اُس کو کافی ہے

آپ کے منہ سے جو نکل جائے
وُہ لکھے گا یہ مو شگافی ہے

کس میں جرأت ہے خود سے کچھ چھاپے
یہ لفافہ ہے وُہ لفافی ہے

نامور لوگ لکھیں گے کالم
اِس کا خرچہ مگر اِضافی ہے

آپ کیا لکھتے ہیں ، نہیں لکھتے
شاعری اَپنی ہے ، اُدھار کی ہے ؟

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

07/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

شاعروں کی ہے ، شاعرات کی ہے
دَعوتِ عام لحمیات کی ہے

’’ سلجھے چرغوں ‘‘ سے کم چلے گا نہیں
چونکہ تقریب اَدبیات کی ہے

چھوٹے قیمے کے سُرخ سیخ کباب
ذائقہ بازی نصف رات کی ہے

جھاگ دو طرح کی اُڑائیں گے
مے کشی جان غزلیات کی ہے

اب کہاں تیرِ نیم کش کا دور
آج کل بات آر پار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

06/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

بُک کی تقریبِ رُونمائی بھی
’’ پانچ تارے ‘‘ میں بُک کرا لیں گے

شعر کو سُر کا دَھکا دینے کو
دو گوّئیے نما بلا لیں گے

اِستری کر کے کچھ لفافے بھی
مختلف رَقموں کے بنا لیں گے

اَدبی گوشوں کے سربراہوں کی
گاڑیاں بھیج کر دُعا لیں گے

اَدبی تنظیموں کی تو اَب حالت
ایک بیمار سو اَنار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

05/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

موٹا کاغذ نظر جکڑتا ہے
دھاگہ جاپانی کم اُکھڑتا ہے

رَنگ اِس کے کرنسی والے ہیں
یہ ’’ پرنٹر ‘‘ جبھی اَکڑتا ہے

جلد ہو اَعلیٰ ، گرد پوش نفیس
قاری تب ہاتھ میں پکڑتا ہے

ایک سی ڈی بھی ٹھونک دیں گے ساتھ
ٹوٹی بھی ہو تو رُعب پڑتا ہے

قصہ ہے آپ کی یہ شہرت کا
داستاں میرے روزگار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

04/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

ڈُھونڈ کر اَچھی غزلیں لا دیں گے
چھپنے سے پہلے بھی پڑھا دیں گے

سر وَرَق ڈھیر سارے رَکھے ہیں
جو کہیں گے وُہی لگا دیں گے

اِک فلیپ آپ کو میں لکھ دُوں گا
دُوسرا ، وُہ میاں بنا دیں گے

آپ کا قد نمایاں کرنے کو
اِک غزل بانس پر چڑھا دیں گے

جس کا جی چاہے اَب ہو ’’ اِہلِ کتاب ‘‘
بات کب جبر و اِختیار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

03/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

آپ باہر کمائی کرتے ہیں
اور اِتنی رَقم سے ڈَرتے ہیں ؟

آپ کے ہاں لکھاری بننے کو
لوگ جی جان سے گزرتے ہیں

روکنے والے سارے حاسد ہیں
اُن کی باتوں پہ کان دَھرتے ہیں ؟

لوگ کیسینو بھی تو جاتے ہیں
ڈُوبنے والے ہی اُبھرتے ہیں

ہم کو معلوم ہے کہ آپ کے ہاں
ایک روٹی بھی دو دُلار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

02/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

دَھندہ کب ہے یہ اَدبی دَفتر ہے
بھاؤ اَشعار کا مقرر ہے

صرف آزاد نظم لکھنے کا
بیس لفظوں کا ایک ڈالر ہے

فی غزل پندرہ پر میں لا دُوں گا
ریٹ ویسے تو کافی اُوپر ہے

پیشہ وَر لوگوں کو ہی لکھنے دیں
آپ خود نہ لکھیں تو بہتر ہے

ایک نو کی بھی چل رہی ہے کتاب
اَپنی ریشو تو ایک چار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

01/11 - بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

بات کب آج شعر شار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے

آج کے آج ہی بنیں شاعر
پیشکش اَپنے کاروبار کی ہے

’’ ٹرن کی ‘‘ سسٹموں کا دور ہے یہ
کچھ کمی ہے تو اِشتہار کی ہے

پیشہ وَر ہیں سو مل کے لکھی کتاب
اِک غزل میری ، اِک فگار کی ہے

بوڑھے لوہار کو بتائے کوئی
ضرب مہنگی فقط سنار کی ہے

بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
بات تو صرف دَس ہزار کی ہے
#شہزادقیس
.

قریبی دوستوں کے راز ہیں برائے فروخت

قریبی دوستوں کے راز ہیں برائے فروخت
مرا قلم ، مرے اَلفاظ ہیں برائے فروخت

کتابیں تول کے بیچی ہیں بھوک کے ہاتھوں
سخن وَری کے سب اَنداز ہیں برائے فروخت

لہو سے لکھے ہُوئے کچھ خطوط ، اِک تصویر
وُہ دیپ جو میرے ہمراز ہیں برائے فروخت

مہینہ باقی ہے اور جیب میں فقط اَلفاظ
چمکتے لوگو ! دو اَبیاض ہیں برائے فروخت

تم اَپنی کہہ کے غزل بزم میں سنا دینا
جمالِ لیلیٰ کے سب ناز ہیں برائے فروخت

خود اَپنی مرضی سے نیلام گھر سجایا ہے
تمام تمغے ، سب اِعزاز ہیں برائے فروخت