اِس شعر میں لکھ ڈالا ہے بنیادی عقیدہ

اِس شعر میں لکھ ڈالا ہے بنیادی عقیدہ
اَحمدؐ سا کوئی دُوسرا دیدہ نہ شنیدہ

جس کُن کی ہے تخلیق تری ذاتِ معظم
اُس کُن کے فضائل کا لکھے کون جریدہ

ہے علم بھی لازِم وَلے یہ ذِہن میں رَکھنا
پڑھ لکھ کے کوئی ہوتا نہیں عرش رَسیدہ

صد چاک ہے غفلت سے مگر تیری عِنایت

کُن کی اَذانِ ناز کا جوہر نبیؐ مِرا

کُن کی اَذانِ ناز کا جوہر نبیؐ مِرا
خِلقت کی ہر بہار کا جھومر نبیؐ مِرا

رَوشن ہے کہکشاؤں میں حُسنِ محمدیؐ
سوچو تو کس قَدَر ہے منور نبیؐ مِرا

سیدؐ ، کلیمؐ ، اُمیؐ ، محمدؐ ، قویؐ ، خلیلؐ
منصورؐ ، حقؐ ، نذیرؐ ، مطہرؐ نبیؐ مِرا

طہؐ ، بشیرؐ ، عزیزؐ ، رَحیمؐ ، اَبطحیؐ ، منیرؐ

اِتنا خوش رَنگ کہ خوابوں کا نگر لگتا ہے

اِتنا خوش رَنگ کہ خوابوں کا نگر لگتا ہے
گنبدِ سبز سے یہ شہر گہر لگتا ہے

معذرَت اِہلِ مدینہ یہ جسارَت ہے مگر
ایک ہستی کے طفیل اَپنا ہی گھر لگتا ہے

پاؤں آقا نے اِنہی گلیوں میں رَکھے ہوں گے !
پاؤں رَکھتے ہُوئے ایمان سے ڈَر لگتا ہے

پلکیں جھاڑُو کے تصور سے دَمک اُٹھتی ہیں

محبت کے دِلکش نگینے سلام

محبت کے دِلکش نگینے سلام
مبارَک ، مقدس مہینے سلام

اے قرآن آوَر ، اے وِجدان گر
اے بخشش کے روشن خزینے سلام

اَذانوں کی ٹھنڈک ، نمازوں کی خوشبو
بہت رُوح پرور قرینے سلام

نگاہوں میں توبہ کی رِم جھم کے پھول
تلاوَت سے پُر نُور سینے سلام

عجب رُوح کا منّ و سلویٰ ہے تُو
کرم ہی کرم کے سفینے سلام

سکھاتا ہے غلبہ ہمیں نفس پر
ترقی کے پُر نُور زینے سلام

منا لے جو رَب قیسؔ رَمضان میں
کہیں اُس کو گیارہ مہینے سلام
#شہزادقیس
.

اَزَل سے معظم ہے نامِ محمدؐ

اَزَل سے معظم ہے نامِ محمدؐ
فرشتوں سے پوچھو مقامِ محمدؐ

بشر عہدِ طفلی سے باہر تو نکلے
کریں گے سبھی اِحترامِ محمدؐ

محمدؐ کے دُشمن ہیں تا حشر اَبتر
خدا خوب لے اِنتقامِ محمدؐ

خلاصہ مکمل شریعت کا لکھ لو
حلالِ محمدؐ ، حرامِ محمدؐ

خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ

خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ
تابندہ ستارے سَرِ دِہلیز خمیدہ

خامہ بنیں اَشجار یا اَبحار سیاہی
مرقوم نہ ہو پائیں گے اَوصافِ حمیدہ

ہر قلب کہاں فیض تری نعت کا پائے
ہر ذِہن کہاں عشق میں آہُوئے رَمیدہ

آقا تری رَحمت کے سمندر پہ نظر ہے

جو یہاں زیر ہُوا سب کو زَبر لگتا ہے

جو یہاں زیر ہُوا سب کو زَبر لگتا ہے
اِس لیے سب سے حسین آپؐ کا دَر لگتا ہے

ہم بھی پردیس میں جاں جانے سے ڈَرتے ہیں حضور
پر مدینے میں کسے موت سے ڈَر لگتا ہے

سنگ دِل شخص پہ قرآن مؤثر کیوں ہے ؟
سنگ ریزوں کی تلاوَت کا اَثر لگتا ہے

چھوڑ کر گردِشی تسبیح ہُوا ہے دو نیم

اِک تجّلی ہے مصطفےٰ اُس کی

اِک تجّلی ہے مصطفےٰ اُس کی
اور کیا لکھوں میں ثنا اُس کی

مامتا جس کی ’’ ایک ‘‘ نعمت ہے
دِل مرے حمد تو سنا اُس کی

’’ اَللہ شافی ‘‘ کا معنی یہ ہے دوست !
ہر مرض میرا ، ہر شفا اُس کی

سرفرازی کو ، عمر بھر ترسا
سر جو چوکھٹ پہ نہ جھکا اُس کی

ایک پتھر نے ، آدمی سے کہا
تُو بھی کچھ حمد گنگنا اُس کی

علم ، عرفان ، عقل ششدر ہیں
اِنتہا پر ہے اِبتدا اُس کی

قیسؔ جو جھوم کر یہ حمد پڑھے
عمر دُگنی کرے خدا اُس کی
#شہزادقیس
.

پلاتا ہے حق جس کو جامِ محمدؐ

پلاتا ہے حق جس کو جامِ محمدؐ
وُہ اَشکوں سے لکھتا ہے نامِ محمدؐ

خِرد ، عشق ، تعلیم ، تقویٰ ہے لازِم
سبھی کیسے سمجھیں مقامِ محمدؐ

دُرُود اُن پہ جب جب پڑھیں بھیگی آنکھیں
اُترتا ہے دِل پر سلامِ محمدؐ

عبادَت کی معراج ، سبحانَ رَبی
خدا نے کیا کم قیامِ محمدؐ

عقل سے ذات ، ماوَرا اُس کی

عقل سے ذات ، ماوَرا اُس کی
کیا لکھے گا ، قلم ثنا اُس کی

ذَرّے ذَرّے کا دائمی حاکم
آگ ، مِٹّی ، پَوَن ، گھٹا اُس کی

تحفے میں اُس کو کچھ بھی دے نہ سکا
جو بھی سوچا تھا ، تھی عطا اُس کی

ہم فقیروں کا کیا ہے دُنیا میں
حتی کہ طاقتِ دُعا اُس کی !

دَھڑکنوں سے لطیف نغمہ تھا
دِل نے سننے نہ دی صدا اُس کی

حُور و جنت تو ’’ ضمنی ‘‘ بات تھی دوست
کاش تم مانگتے رِضا اُس کی

شرم کر کچھ گناہ کرنے میں
قیسؔ بخشش نہ آزما اُس کی !
#شہزادقیس
.