• Slideshow Slideshow
سانس جب تک بحال ہے بابا

سانس جب تک بحال ہے بابا

سانس جب تک بحال ہے بابا
آرزُو کا وَبال ہے بابا
سینکڑوں نعمتوں کا مل جانا
غالباً نیک فال ہے بابا
نیکیوں میں اِضافہ بہتر ہے
رِزق کی دیکھ بھال ہے بابا
یار کے دَر پہ ناچتی ہے زَمین
زَلزلہ بھی دَھمال ہے بابا
شیخ سمجھاتا ہے مثالوں سے
اور وُہ بے مثال ہے بابا
او حرم جا کے کانپنے والے
ہر جگہ ذُوالجلال ہے بابا
دُوسری سمت کوئی ہے ہی نہیں
صرف آنکھوں کی چال ہے بابا
صبر پیغمبروں کا وِرثہ ہے
صبر جیون کی ڈھال ہے بابا
طشت میں رَکھے سر نے رو کے کہا
دَھڑ ہی دَراَصل تھال ہے بابا
اَپنے اَپنے کمال کے ہاتھوں
ہر کوئی یرغمال ہے بابا
لیلیٰ بننے کی سب کو خواہش ہے
قیس جیسوں کا کال ہے بابا
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields