Page No. 1

Page No. 1

خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ
تابندہ ستارے سَرِ دِہلیز خمیدہ
خامہ بنیں اَشجار یا اَبحار سیاہی
مرقوم نہ ہو پائیں گے اَوصافِ حمیدہ
ہر قلب کہاں فیض تری نعت کا پائے
ہر ذِہن کہاں عشق میں آہُوئے رَمیدہ
ہے علم بھی لازِم وَلے یہ ذِہن میں رَکھنا
پڑھ لکھ کے کوئی ہوتا نہیں عرش رَسیدہ
اُٹھی ہیں مدینہ کو طلب گار نگاہیں
اُمت کے ہُوئے جاتے ہیں حالات کشیدہ
آقا تری رَحمت کے سمندر پہ نظر ہے
اَعمال میں سستی ہے مگر پختہ عقیدہ
یعنی میں مدینہ کی فَضاؤں میں کھڑا ہُوں!
حیران ہیں اَفکار تو نمناک ہے دیدہ
گُل آپ کی خاطر چنے با عرقِ ندامت
شبنم سے شرابور ہیں گُل ہائے چُنیدہ
صد چاک ہے غفلت سے مگر تیری عِنایت
بھر سکتی ہے ہر عاصی کا دامانِ دَریدہ
دامن مرا پُر کر دے ترے اَبرِ کرم سے
گلشن میں کھلیں پھول سرِ شاخِ بُریدہ
یہ کہہ کے قلم قیس مرا تتلی نے چوما
خوش بخت ہو لکھتے ہو محمد کا قصیدہ
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields