• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
اِتنا خوش رَنگ کہ خوابوں کا نگر لگتا ہے

اِتنا خوش رَنگ کہ خوابوں کا نگر لگتا ہے

اِتنا خوش رَنگ کہ خوابوں کا نگر لگتا ہے
گنبدِ سبز سے یہ شہر گہر لگتا ہے
پاؤں آقا نے اِنہی گلیوں میں رَکھے ہوں گے !
پاؤں رَکھتے ہُوئے ایمان سے ڈَر لگتا ہے
پلکیں جھاڑُو کے تصور سے دَمک اُٹھتی ہیں
راستہ آپؐ کی گر راہ گزر لگتا ہے
ہجر میں آپؐ کے نمناک فقط آنکھ نہیں
خون سے سینے میں اِک ٹکڑا بھی تر لگتا ہے
سنگ دِل شخص پہ قرآن مؤثر کیوں ہے ؟
سنگ ریزوں کی تلاوَت کا اَثر لگتا ہے
چھوڑ کر گردِشی تسبیح ہُوا ہے دو نیم
عارِف قصۂ معراج ، قمر لگتا ہے
جو محمدؐ کا نہیں ، دُنیا کو وُہ جو بھی لگے
اِہلِ کردار کو وُہ صرف صفر لگتا ہے
ہم بھی پردیس میں مر جانے سے ڈَرتے ہیں حضور
پر مدینے میں کسے موت سے ڈَر لگتا ہے
معذرَت اِہلِ مدینہ یہ جسارَت ہے مگر
ایک ہستی کے طفیل اَپنا ہی گھر لگتا ہے
طاعتِ اَحمدِ مُرسلؐ کا شجر دِل میں لگا
اِس پہ جنت کی بشارَت کا ثمر لگتا ہے
ناز ہو جس کو محمدؐ کی غلامی پر قیس
آنکھ والوں کو وُہی اِہلِ نظر لگتا ہے
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields