• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
عقل سے ذات ، ماوَرا اُس کی

عقل سے ذات ، ماوَرا اُس کی

عقل سے ذات ، ماوَرا اُس کی
کیا لکھے گا ، قلم ثنا اُس کی
ذَرّے ذَرّے کا دائمی حاکم
آگ ، مِٹّی ، پَوَن ، گھٹا اُس کی
تحفے میں اُس کو کچھ بھی دے نہ سکا
جو بھی سوچا تھا ، تھی عطا اُس کی
ہم فقیروں کا کیا ہے دُنیا میں
حتی کہ طاقتِ دُعا اُس کی !
مامتا جس کی ’’ ایک ‘‘ نعمت ہے
دِل مرے حمد تو سنا اُس کی
’’ اَللہ شافی ‘‘ کا معنی یہ ہے دوست !
ہر مرض میرا ، ہر شفا اُس کی
سرفرازی کو ، عمر بھر ترسا
سر جو چوکھٹ پہ نہ جھکا اُس کی
ایک پتھر نے ، آدمی سے کہا
تُو بھی کچھ حمد گنگنا اُس کی
دَھڑکنوں سے لطیف نغمہ تھا
دِل نے سننے نہ دی صدا اُس کی
حُور و جنت تو ’’ ضمنی ‘‘ بات تھی دوست
کاش تم مانگتے رِضا اُس کی
شرم کر کچھ گناہ کرنے میں
قیس بخشش نہ آزما اُس کی !
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields