• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
حسین باتوں کا کب اِنتقال ہوتا ہے

حسین باتوں کا کب اِنتقال ہوتا ہے

حسین باتوں کا کب اِنتقال ہوتا ہے
جو شعر دِل سے لکھو لازَوال ہوتا ہے
حقیقی شاعری حق الیقیں سے ہوتی ہے
تلاشِ فکر سے بس قیل و قال ہوتا ہے
ہمارے جیسوں کو دُنیا سمجھتی ہے شاعر
جب اِہلِ شعر کا قحط الرِجال ہوتا ہے
بنا عطا کے بڑے بھائی کچھ نہیں ملتا
کرم کی شرط پہ کسبِ کمال ہوتا ہے
جہانِ شعر کو صاحب خیالی مت جانو
کہ کُن سے پہلے سبھی کچھ خیال ہوتا ہے
خطیب مخرجِ زیر و زَبر میں اَٹکا ہُوا
بِلال عشق کے بل پر بِلال ہوتا ہے
صنم تراش سے کہہ دو خلوص کم کر دے
خدا پرستوں کا جینا مُحال ہوتا ہے
فرشتے دِل نہیں رَکھتے ، یقین آتا ہے
کسی حسینہ کا جب اِنتقال ہوتا ہے
بدن شراب میں دُھویا ہُوا طلسمِ خیال
کہ جیسے نیند میں کم سن غزال ہوتا ہے
دُعا ہے عشق مرا ، تیری رُوح تک پہنچے
یہی نشاط فقط لازَوال ہوتا ہے
بضد ہیں حضرتِ واعظ تو ، توبہ کر لو قیس
کہ مرتے وَقت سبھی کچھ حلال ہوتا ہے
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields