• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
غزل ہماری حُضور آئینے کے جیسی ہے

غزل ہماری حُضور آئینے کے جیسی ہے

غزل ہماری حُضور آئینے کے جیسی ہے
سو جس کو اَچھی لگے اُس میں کوئی خوبی ہے
میں دے کے آئینہ اُس دِل رُبا سے کہنے لگا
بتاؤ! جانِ غزل ، رُوحِ شعر کیسی ہے
طلسم ہوش رُبا آئینے کو آتا ہے
وَگرنہ تم سی پری ، قید تھوڑا ہوتی ہے
خدایا خواب سے باہر بھی ایسے ہوتا ہے
کسی کو دیکھ کے بازُو پہ چٹکی بھر لی ہے
یہ کہہ کے کر دِیا آب آب شوخ کشمش نے
تمہارے عشق کا اَنداز قدرے فلمی ہے
زَمانے بھر کے حوادِث سے ، کوئی رَبط نہیں
ہماری آنکھ تو پیدائشی پھڑکتی ہے
بٹن دَباتا ہے ، سر خود قلم نہیں کرتا
بشر اَب ایک مہذب ترین وَحشی ہے
سفید سچ ، کسی دُنیا میں چل نہیں سکتا
خدا معاف کرے ، سچی بات کہہ دی ہے
اِلٰہیات کے اَسباق ، چیستانِ شعور
مری پکار کا دے گا جواب ، جو بھی ہے
یہ شعر جب بھی پڑھا دِل خوشی سے بھر آیا
خدا کا ذِکر بھی دِل کی خوشی کو کافی ہے
پسند کرتے ہو جو قیسؔ کی غزل صاحب
مکرر عرض کروں ، آپ کی یہ خوبی ہے
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields