Page No. 1

Page No. 1

فُضول بیٹھ کے صفحات بھرتا رہتا ہُوں
میں اَپنے آپ کو اِلہام کرتا رہتا ہُوں
اَگر ، مگر ، نہیں ، ہرگز کی کند قینچی سے
اَنوکھے خوابوں کے پَر ، شَر کترتا رہتا ہُوں
میں سانس نگری کا بے حد عجیب مالی ہُوں
لگائے پودوں کے بڑھنے سے ڈَرتا رہتا ہُوں
نجانے کس نے اُڑا دی کہ ’’ دِن معین ہے ‘‘۔
یقین مانیے میں روز مرتا رہتا ہُوں
مرے وُجود کو اَشکوں نے گوندھ رَکھا ہے
ذِرا بھی خشک رَہوں تو بکھرتا رہتا ہُوں
دُعا کو ہاتھ اُٹھاتا تو اُس پہ حرف آتا
اَبھی تو سستی پہ اِلزام دَھرتا رہتا ہُوں
کسی کے حُسن کا ہے رُعب اِس قَدَر مجھ پر
میں خواب میں بھی گلی سے گزرتا رہتا ہُوں
بہت سے شعروں کے آگے لکھا ہے ’’ نامعلوم ‘‘۔
بہت سے شعر میں کہہ کر مکرتا رہتا ہُوں
اُدھورے قصے کئی کاندھا مانگتے ہیں مرا
میں کھنڈرات میں اَکثر ٹھہرتا رہتا ہُوں
تمام لوگ مرا آئینہ ہیں ، اُن کے طفیل
میں اَپنی ذات کے اَندر اُترتا رہتا ہُوں
بہت سے کاموں میں خود کار ہو گیا ہُوں قیس
میں خود کو کہہ کے ’’ سدھر جا ‘‘ ، سدھرتا رہتا ہُوں
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields