• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
دُور سے ہی سلام ہے صاحب

دُور سے ہی سلام ہے صاحب

دُور سے ہی سلام ہے صاحب
حُسن ہم پر حرام ہے صاحب
ہم جنونی ، مسافرانِ دار
عشق اَپنا اِمام ہے صاحب
عشق تو جاں کنی میں سجدے کو
عمر بھر کا قیام ہے صاحب
ہاں وُہی جس نے سوچا تاج مَحَل
وُہ بھی اَپنا غلام ہے صاحب
کاش ایسی بنے وُہ رو کے کہیں
آپ سے ایک کام ہے صاحب
اُس پہ لکھتا ہُوں ، اُس نے ایسا کہا؟
مینڈکی کو زُکام ہے صاحب
اِنتساب اُس کے نام لکھا مگر
وُہ تو بس اِنتقام ہے صاحب
اَپنی اَوقات سے بڑی شے کی
آرزُو بھی حرام ہے صاحب
جب تلک لکھنے والا زِندہ ہے
ہر غزل ناتمام ہے صاحب
خود کشی کے بہت سے رَستے ہیں
عشق ہی سب سے عام ہے صاحب
آنکھ بند کر کے لیجیے وُہ کتاب
قیس کا جس پہ نام ہے صاحب
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields