• Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow Slideshow
Page No. 1

Page No. 1

چار دِن تو خوشی منانی تھی
زِندگی ختم ہو ہی جانی تھی
راجا ، رانی تو کل کے بچے ہیں
داستاں وَقت سے پرانی تھی
موت کا پھول کھلنے سے پہلے
زِندگی ، بے سُری کہانی تھی
رُوح کا ہم طواف کرتے رہے
جسم دَراَصل زِندگانی تھی !
مجھ کو پاگل بنا رہے تھے لوگ
میں نے مجنوں کی بات مانی تھی
خواب کا بچہ کس گھڑی ٹُوٹا
جب مجھے پنکھڑی چبانی تھی
تُو نے مرہم لگا کے ظلم کیا !
میرے پاس اِک یہی نشانی تھی
موت نے جلدبازی کی ورنہ
نیند سُولی پہ آ ہی جانی تھی
جان کی گر اَمان مل جاتی
اِک غزل کان میں سنانی تھی
میں رَواں شعر خوب لکھتا تھا
اُس کی ہر بات میں روانی تھی
قیس گر میر سی بھی کہتے غزل
لیلیٰ نے تھوڑی گنگنانی تھی !
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields