Page No. 1

Page No. 1

شِکنجے ٹُوٹ گئے ، ’’ زَخم ‘‘ بدحواس ہُوئے
سِتم کی حد ہے کہ اِہلِ سِتم اُداس ہُوئے
لہو کا ایسا سمندر بہایا دُشمن نے
سفینے زِندہ دِلوں کے بھی ، غرقِ یاس ہُوئے
حساب کیجیے ، کتنا سِتم ہُوا ہو گا
کفن دَریدہ بدن ، زِندگی کی آس ہُوئے
کچھ ایسا مارا ہے شب خون ، اِبنِ صحرا نے
سمندَروں کے سَبُو پیاس ، پیاس ، پیاس ہُوئے
نجانے شیر کے بچے ، اُٹھا لیے کِس نے
یہ مُوئے شَہر جو ، جنگل کے آس پاس ہُوئے
خُدا پناہ ! وُہ کڑوا خِطاب رات سُنا
کریلے نیم چڑھے ، باعثِ مِٹھاس ہُوئے
ہر ایک فیصلہ ، محفوظ کرنے والو سنو !
جھکے ترازُو ، شَبِ ظلم کی اَساس ہُوئے
ہماری نسل بھی محرومِ اِنقلاب رہی
ہمارے شعر بھی کُتبوں کا اِقتباس ہُوئے
گلابی غُنچوں کا موسم اُداس کرتا ہے
کچھ ایسے دِن تھے ، جب اُس گل سے رُوشناس ہُوئے
ہر ایک شخص کا ، سمجھوتہ اَپنے حال سے ہے
خوشی سے سانس اُکھڑنا تھا ، غم جو راس ہُوئے
قبائے زَخمِ بَدن ، اَوڑھ کر ہم اُٹھے قیس
جو شاد کام تھے ، مِحشَر میں بے لباس ہُوئے(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields