Page No. 1

Page No. 1

سُورَج پہ اَشکِ عشق گرانا پڑا مجھے
بجھتا ہُوا چراغ جلانا پڑا مجھے
اِنسان کے ضمیر میں تھا حبس اِس قَدَر
تاریکیوں کو پانی پلانا پڑا مجھے
تم لوگ جھوٹے قصوں کے قلعے میں دَفن ہو
کاندھا ہلا ہلا کے بتانا پڑا مجھے
پہلے پہل کے خواب کی تعبیر کے لیے
پہلو نصیحتوں سے بچانا پڑا مجھے
دِل میں خدا مقیم تھا پر بات چیت کو
خود کو طرح طرح سے ہرانا پڑا مجھے
طوطا نگر میں حافظہ واحد اُصول تھا
تازہ خیال لکھ کے مٹانا پڑا مجھے
ہر چیز یوں نظام کے چنگل میں قید تھی
اَپنا لہو خرید کے لانا پڑا مجھے
اِک بے مثال جھوٹ کی سرکُوبی کے لیے
دو بار عہدِ ماضی میں جانا پڑا مجھے
غصے میں لات ماری جو کبڑے نظام کو
ہر پرزہ پھر صفر سے بنانا پڑا مجھے
دُہرا نہ سکی پھر وُہ کبھی اَپنے آپ کو
تاریخ کو تَنَوُّع پڑھانا پڑا مجھے
ٹُوٹے ہُوئے ستاروں سے ہر جھولی بھر گئی
ہلکا سا آسمان ہلانا پڑا مجھے
تقسیم منصفانہ وَسائل کی چل پڑی
تقدیر کو حساب سکھانا پڑا مجھے
اِک بے خطا وُجود نے جب جانور کہا
غصے سے اُس کو ہنس کے دِکھانا پڑا مجھے
بستی بَدَر کیا جو کسی اَفلاطون نے
اِک شہر شاعروں کا بسانا پڑا مجھے
کرتا نہیں تھا ہجر کے ماروں کا اِحترام
موسم کو تازِیانہ لگانا پڑا مجھے
سائے میں بیٹھے مانگتے تھے سائے کی دُعا
دیوار میں دَرخت اُگانا پڑا مجھے
تعلیم رُوکھی سُوکھی کی سب کو عزیز تھی
قارُون کا خزانہ دَبانا پڑا مجھے
موتی کی بھیک اُچھالی جو مکار سیپ نے
پانی پہ اُس کو چل کے دِکھانا پڑا مجھے
ٹھنڈی ہَوائیں عشق کی سب تک پہنچ گئیں
دو چار سو کا چولہا بجھانا پڑا مجھے
آنکھوں کا پانی مرتے ہی کاجل کی ریت پر
اِک جھیل کا جنازہ پڑھانا پڑا مجھے
مندر ، حرم ، کلیسا میں کچھ دیر تُو رہا
لیکن کِرایہ پورا چکانا پڑا مجھے
باہر تھی مجرموں کو کھلی چھٹی اِس لیے
زِنداں میں رات لوٹ کے آنا پڑا مجھے
روشن ضمیر ہونے کی یہ پہلی شرط تھی
اَپنے لبوں پہ تالہ لگانا پڑا مجھے
سب لوگ پہلے دیکھتے تھے کس کا قول ہے
نہ چاہ کر بھی نام کمانا پڑا مجھے
رَستے تو باقی سارے ہی کھلتے چلے گئے
بس خود میں آرزُو کو جگانا پڑا مجھے
اَفسوس ! راہِ راست پہ لانے کے واسطے
اِنسان کو خدا سے ڈَرانا پڑا مجھے
کھائے گی اَگلی نسل ثمر اِس کا غالباً
اِنسانیت کا پیڑ لگانا پڑا مجھے
پوچھا گیا جو سب سے بڑا باغی کون ہے
دیمک کے سر پہ تاج سجانا پڑا مجھے
جعلی نمائندوں کی تھی بھرمار اِس قَدَر
خود اَپنی اُنگلی تھام کے آنا پڑا مجھے
سنگلاخ نظریات کی اَندھی چٹان پر
حیرت کا پہلا قطرہ گرانا پڑا مجھے
ہر کم نظر سے معنی کا جگنو بچانے کو
اَلفاظ کا دَرخت جلانا پڑا مجھے
کٹھ پتلیوں پہ اُن کی حقیقت نہ کھل سکی
مجبوراً اُنگلیوں پہ نچانا پڑا مجھے
سنجیدہ محفلوں میں مدبر بڑوں کو قیس
پسلی پہ چاقو رَکھ کے ہنسانا پڑا مجھے
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields