Page No. 1

Page No. 1

لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے
آرزُو دار پہ تا مرگ چڑھا دی جائے
ڈھانپ دو غم کے گھنے اَبر سے نُورِ خورشید
اَندھی ملکہ کے لیے شمع جلا دی جائے
سر کے جگنو کی سَرِ شام لگا کر بولی
وَحشتِ شب کو تسلی سے ہَوا دی جائے
کوُکتی فاختہ کا گھونسلہ کر کے مسمار
حُسن دِکھلانے پہ تتلی کو سزا دی جائے
چند ’’ منظور شدہ ‘‘ خوابوں کو کر کے تقسیم
رات بھر جاگنے پہ قید بڑھا دی جائے
دیپ روشن نہ کرے کوئی اِجازَت کے بغیر
ہتھکڑی گھر کے چراغاں پہ لگا دی جائے
تتلیاں دُور نکل جانے پہ اُکساتی ہیں
راتوں رات اِن پہ کوئی بجلی گرا دی جائے
سَر سے بھیڑوں کے گزر جائے جو بھاشن وُہ ہو
اَجنبی شبدوں کی توقیر بڑھا دی جائے
قتل کو روکنا ترجیح نہیں حاکم کی
کم سے کم وَقت پہ دیت تو اَدا کی جائے
چار مظلوم کہیں یکجا نہ ہونے پائیں
تعزیت کرنے پہ تعزیر لگا دی جائے
مجنوں بننے کے سِوا قیس کوئی رَستہ کہاں
جب غزل مرحبا کہتے ہی بھُلا دی جائے
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields