Page No. 1

Page No. 1

خون میں اَشک ملاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
کام پر جان لڑاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
آسماں تکتے ہیں کچھ دیر کو نم آنکھوں سے
اور پھر رِزق کماتے ہُوئے مر جاتے ہیں
چھت بھی برسات میں رو پڑتی ہے غم پر اُن کے
گھر جو ہم سب کے بناتے ہُوئے مر جاتے ہیں
آہ ! عیاش نگاہوں کے مقابل لاچار
سر بہت غم سے جھکاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
جسم پٹری پہ دَفن کرنے کبھی نہ آتے
بیٹیاں بھوکی سلاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
پھول سے بچے کئی آج بھی شاہی رَتھ کی
راہ میں پھول بچھاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
غم بلکتا ہے کھلونوں کی اُداس آنکھوں میں
اور معصوم کماتے ہُوئے مر جاتے ہیں
لہلہاتی ہُوئی فصلوں کے کئی پالن ہار
رِزق کی قسطیں چکاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
آہ ! طوفانِ گرانی کے مقابل مزدُور
کاغذی کشتی بناتے ہُوئے مر جاتے ہیں
قصرِ شاہی کو سب اَچھا کی خبر ملتی ہے
لوگ زَنجیر ہلاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
اِنقلاب آئے گا ، مزدُور اِسی سوچ میں قیس
عمر بھر نعرے لگاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields