Page No. 1

Page No. 1

دِل دَھڑکنے پہ بھی پابندی لگا دی جائے
لاش اِحساس کی سُولی پہ چڑھا دی جائے
ذِہن کی جامہ تلاشی کا بنا کر قانون
سوچنے والوں کو موقعے پہ سزا دی جائے
آرزُو جو کرے دیوانوں میں کر دو شامل
خواب جو دیکھے اُسے جیل دِکھا دی جائے
آج سے قومی پرندہ ہے ہمارا طوطا
نسل شاہین کی چن چن کے مٹا دی جائے
جاں بچانے کا پتنگوں کی بہانہ کر کے
شمع جلنے سے بھی کچھ پہلے بجھا دی جائے
روز خود سوزِیوں سے اُٹھتی ہے ہم پر اُنگلی
خود کشی جو کرے گردَن ہی اُڑا دی جائے
راہ بتلانے ، مدد کرنے کی عادَت نہ پڑے
راستہ پوچھنے پہ قید بڑھا دی جائے
لوگ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں
پھول پر دیکھتے ہی گولی چلا دی جائے
سانس لینے کے بھی اَوقات مقرر کر کے
حَبس دَر حَبس کو دوزَخ کی ہَوا دی جائے
کام تحریر مٹانے کا بہت بڑھنے لگا
نعرے لکھے ہوں تو دیوار گرا دی جائے
جبرِ حالات سے ہر شخص کو مجنوں کر کے
بھیڑ میں قیس کی آواز دَبا دی جائے
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields