Page No. 1

Page No. 1

چمن اُجاڑ کے قبریں سجانے والے لوگ
یہ بھوکے ، ننگوں کی برسی منانے والے لوگ
یہ اَپنی پستی کا دَراَصل کرتے ہیں اِعلان
مَرے بزرگوں کے قصے سنانے والے لوگ
ہے جبری شادی بھی بیٹی کو زِندہ دَفنانا
سمجھتے کیوں نہیں مرضی چلانے والے لوگ
یہ کوّے جتنی سمجھ بوجھ بھی نہیں رَکھتے
خدا کے نام پہ لاشیں جلانے والے لوگ
یہ اَپنے خوابوں کی میّت کا چہرہ بھول گئے ؟
ہمارے پیار پہ اُنگلی اُٹھانے والے لوگ
ہمارے دَرد کا عشرِ عشیر کیا جانیں
یہ پہلی چوٹ پہ آنسو بہانے والے لوگ
ذِرا سی دیر کو خود کو خدا سمجھتے ہیں
کسی فقیر کو روٹی کھلانے والے لوگ
کلی کی خوشبو کو ، جگنو کے نور کو سوچیں
فقط اُداسی کی خبریں سنانے والے لوگ
تمام چوروں کو آزاد کر دِیا جائے
سزا تو پاتے نہیں دِل چرانے والے لوگ
زَمانے والو سہارا سُخن وروں کا بنو
یہی ہیں سوچوں کا قبضہ چھڑانے والے لوگ
وُہ مجنوں ، مر کے بھی تاریخ کا حوالہ ہے
کہاں ہیں قیس پہ پتھر اُٹھانے والے لوگ
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields