Page No. 1

Page No. 1

کارخانوں کو بچاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
پیٹ کی آگ بجھاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
کاغذی کھیتوں میں ہم جیسے دَرخشاں ہاری
پھول میں خوشبو ملاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
ہائے اَفسوس کہ دَلدل میں بقا کے مزدُور
عمر بھر ہاتھ چلاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
چند دیوار کی زَد میں ہُوئے اَبدی ساکِت
چند دیوار بناتے ہُوئے مر جاتے ہیں
بال کھولے ہُوئے لیتی ہے قضا اُن کی جان
جو عزیزوں کو بچاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
جن کا چھن جائے سہارا وُہ اَگر بچ جائیں
غالبا اَشک بہاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
بے بسوں کے لیے بنتا ہے وِداع کا منظر
اَپنے جب ہاتھ ہلاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
سانس لیتے ہیں مگر اَصل میں اَکثر اَوقات
لوگ پیاروں کو دَباتے ہُوئے مر جاتے ہیں
رُوح کا کرب زَمانے کو دِکھانے کے لیے
جسم کو آگ لگاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
صُور کو تکتا ہے حسرت سے فرشتہ کوئی
لوگ جب روٹی چراتے ہُوئے مر جاتے ہیں
اِہلِ زَر جان کا تاوان بھرا کرتے ہیں
قیس ہم قرض چکاتے ہُوئے مر جاتے ہیں
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields