Page No. 1

Page No. 1

بغاوَت بھی سیاست تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
اُسے جلسوں کی عادَت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
پڑھے لکھے کئی اِہلِ قلم اُس کے ملازِم تھے
وُہ خود خالِص جہالت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
عوام الناس کو جمہورِیت کی راہ پر لانا
شہنشاہی سیاست تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
وُہ پاگل خانے سے کچھ روز کی چھٹی پہ آیا تھا
وُہ پگلا پن حقیقت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
غریبوں کی بھلا تقدیر کوئی کب بدلتا ہے
یہ نعرہ ہی حماقت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
وُہ بھیڑوں کے لیے اِک بھیڑیئے کی جان لے لینا
قصائی کی سخاوَت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
ہم ایسے لوگوں کے پیچھے نمازیں جھونک آئے ہیں
جنہیں ویزوں کی حاجت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
ہماری عقل شاید گھاس چرنے ہی گئی ہو گی
وُہ بندر کی عدالت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
اُسے اِک ’’ رویتِ قبلہ کمیٹی ‘‘ فون کرتی تھی
وُہ کٹھ پتلی بغاوت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
بھنور کا کشتیوں کی پہلی صف کو نہ نگلنا بھی
سمندر کی شرارَت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
لڑائی اَصل میں دو ہاتھیوں کے دَرمیاں تھی قیس
جنہیں مہروں کی حاجت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields