Page No. 1

Page No. 1

آرزُوئے بہشت بھی کرتا
زِندگی سے ہی دِل نہیں بھرتا
غیر صادِق بقول قرآں کے
موت کی آرزُو نہیں کرتا
موت کا خوف جان لیوا ہے
آدمی موت سے نہیں مرتا
جبر کی جان جاتی ہے اُس سے
جان جانے سے جو نہیں ڈَرتا
خون جس کی گواہی دیتا ہے !
وُہ عقیدہ کبھی نہیں مرتا
حُسن کو سجدہ کر لیا جائے
ٹکٹکی سے تو دِل نہیں بھرتا
خوف سے یوں نہ آنکھیں بند کرو
چومنے سے کوئی نہیں مرتا
شمع دِکھلا کے پوچھا لیلیٰ نے
عشق کرنے سے کیوں نہیں ڈَرتا ؟
پیٹ بھر سکتا ہے سمندر کا
لالچی شخص کا نہیں بھرتا
سانپ نے شَہد کا سہارا لیا !
کوئی اَب زَہر سے نہیں مرتا
اَپنے آقا کو اُس نے جا کے کہا
قیس کہتا ہے میں نہیں ڈَرتا
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields