Page No. 1

Page No. 1

یار آتے ہیں کم دِسمبر میں
ساتھ دیتے ہیں غم دِسمبر میں
آس کے لڑکھڑاتے ، زَخمی چراغ
توڑ دیتے ہیں دَم دِسمبر میں
دَرد کی چمنیوں کا سرد دُھواں
منجمد ہیں اَلم دِسمبر میں
آئینہ بن گیا ہے جیون کا
دُھند کا جامِ جم دِسمبر میں
چند شعروں نے سُن کیا وَرنہ
توڑ دیتے قلم دِسمبر میں
برف کے بُت کی آنکھ بھر آئی
دِل پکارا صنم دِسمبر میں
مصلحت نے بہت اُداس کیا
کھا گئی اِک قسم دِسمبر میں
اَشک چپ چاپ کرتے رہتے ہیں
حالتِ دِل ، رَقم دِسمبر میں
چند بیچارے رو کے دینے لگے
غم کو غم کی قسم دِسمبر میں
سرد موسم کا ہے اَثر شاید
سبز رہتے ہیں غم دِسمبر میں
خشک پھول آخری کتاب کے قیس
کر دِئیے ہم نے نم دِسمبر میں
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields