Page No. 1

Page No. 1

سَوا نیزے پہ چاند آیا ہُوا ہے
دَرَختوں پر کوئی بیٹھا ہُوا ہے
تر و تازہ ہے کیوں جن زاد آخر
پری کا رَنگ کیوں اُترا ہُوا ہے
جماہی لے کے پرچھائیں نے سوچا
یہ بندہ آج بھی جاگا ہُوا ہے
اِشارے سے کسی مخفی نے پوچھا
یہاں کچھ دیر پہلے کیا ہُوا ہے؟
میں کالے علم کا ماہر نہیں ہُوں
کسی گوری سے کچھ سیکھا ہُوا ہے
بَلا نے دانت چمکا کر بتایا
ذِرا سا دائرہ ٹُوٹا ہُوا ہے
فقط مجھ کو نظر آتا ہے لیکن
چھلاوہ راہ میں بیٹھا ہُوا ہے
میں اُس کے بس میں ہُوں ، ہمزاد اُس کا
مرے ہمزاد کو چمٹا ہُوا ہے
چڑیلیں رَقص کرتی پھر رہی ہیں
کسی مردے کے گھر بچہ ہُوا ہے
سمندر پر ذِرا بھی شک نہ کرنا
سمندر میں نے خود دُھویا ہُوا ہے
کسی کو کیا خبر بد رُوح میں بھی
کوئی اِنسان ہی رُوٹھا ہُوا ہے
کسی آواز نے گھبرا کے سوچا
یہ شاعر ہے تو پھر پہنچا ہُوا ہے
یقینا گرمیوں کی چھٹیاں ہیں
چھلاوہ شہر میں آیا ہُوا ہے
’’عمل‘‘ کے بیچ میں کیوں یاد آئے
مجھے ہمزاد نے جکڑا ہُوا ہے
تمہارے پاؤں سیدھے ہو گئے ہیں
مگر دانتوں پہ کچھ چپکا ہُوا ہے
بہت دِن بعد شاید لاش آئی
کئی قبروں نے منہ کھولا ہُوا ہے
سبھی گھڑیوں میں یکساں نَقص کیسے
یقینا وَقت ہی ٹھہرا ہُوا ہے
نجانے کیا عقیدہ ہو بَلا کا
نشاں ہر دین کا رَکھا ہُوا ہے
جہانِ شعر ہے آسیب نگری
مجھے بھی شعر اِک چمٹا ہُوا ہے
غزل یہ قیس کب لکھی ہے میں نے
مرا سر اِس لیے گھوما ہُوا ہے
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields