Page No. 1

Page No. 1

جو پھول گر گیا اُس کو اُٹھانا ٹھیک نہیں
یہ ہاتھ چھوڑ دے ، میرا چھڑانا ٹھیک نہیں
میں لڑکی ہوتی تو اِس وَقت پھُوٹ کر روتی
میں مرد ہُوں مرا آنسو بہانا ٹھیک نہیں
میں بے وَفائی کا اِلزام خود پہ لے لوں گا
وُہ بے وَفا ہے اُسے یہ بتانا ٹھیک نہیں
صلیبِ قبر پہ یارو لہو سے لکھ دینا
کہ آزمودہ کو پھر آزمانا ٹھیک نہیں
غزل کو وُہ بھی پڑھیں گے ، ’’وُہ‘‘ شعر رہنے دُوں
کہ اَب تو شکوہ بھی اُن کو سنانا ٹھیک نہیں
ہر اِک سفینے کو دیمک لگی ہے سانسوں کی
کسی کی موت پہ خوشیاں منانا ٹھیک نہیں
اَندھیری رات مرے ساتھ چاہے کچھ بھی کرے
سَحَر سے پہلے کسی کو جگانا ٹھیک نہیں
شکستہ خواب کو بھی حق ہے سانس لینے کا
اُدھورے پیار کو پورا بھلانا ٹھیک نہیں
مرے مسیحا کو اے کاش کوئی سمجھا دے
جو جاں وَبال ہو اُس کو بچانا ٹھیک نہیں
میں مانتا ہوں سفینہ جلانا جبر ہے پر
چراغ قیس ہمیشہ بجھانا ٹھیک نہیں
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields