Page No. 1

Page No. 1

دِل بھر گیا وَفا سے ، کسی بے وَفا کے بعد
کھل کر بتوں کو پُوجا ہے ، ہم نے خُدا کے بعد
بتلا رہے تھے زَرد لِفافے ، ہَوا کا رُخ
پتوں کے خط ملے مجھے ، ٹھنڈی ہَوا کے بعد
اَشکوں کی آبشار تھی ، ہچکی بھرا جواب
تعزیر عشق پر لگی ، ’’حُسنِ اَدا‘‘ کے بعد
قربانی مانگنے لگا ، ہر کام کے لیے
آئینہ پُوجنے لگے سب دیوتا کے بعد
شب بھر بتوں کو رَکھا رُکوع و سُجود میں
پتھر خدا خدا کریں اِک پارسا کے بعد
ہم دائرہ پرستوں کے ، چُنگل میں قید ہیں
منزل ملے گی قوم کو ، ہر رَہنما کے بعد
اَچھا ہُوا کہ کوئی بھی محرم نہ مل سکا
دِل میں جگہ بھی تھی کہاں ، اَپنی اَنا کے بعد
شاید مری طلب میں ، کمی تھی خُلوص کی
تسکین وَرنہ ہوتی ہے ، سچی دُعا کے بعد
دُنیا سے جانے والوں کے چہروں پہ ہے رَقم
زِندان گھر ہی لگتا ہے ، لمبی سزا کے بعد
قیس آج لوگ ٹُوٹ کے ، چاہیں ہمیں تو کیا
اَب ہم نرے بدن ہیں ، کسی ’’آتما‘‘ کے بعد
(Built By UrduKit UrduKit.com)
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields