چاہتوں کا عجب صلہ دے گا

چاہتوں کا عجب صلہ دے گا

چاہتوں کا عجب صلہ دے گا
خون سے لکھے خط جلا دے گا
میرے نغمات قتل کر کے اُنہیں
یاد کے صَحن میں دَبا دے گا
خون سے خط اَگر نہ لکھتا رَہوں
وُہ مجھے شام تک بھُلا دے گا
پھر سے ملنے کا وعدہ کر کے مجھے
آس کی دار پر چڑھا دے گا
صبر کی بے کراں چٹانوں کو
وَصل کا سانحہ رُلا دے گا
دُوسرا کوئی کیا مٹائے گا
عشق ، عشاق کو مٹا دے گا
تُو مرا کچھ بھی اَب نہیں لگتا
اَب مجھے اور کیا سزا دے گا
غم رَقیبوں کا کھائے جاتا ہے
آہ ! تُو اُن کو بھی دَغا دے گا
بولنے والے طوطے یہ تو بتا
تُو مجھے بولنا سکھا دے گا ؟
دِل تو بچپن میں یہ بھی کہتا تھا
رَب ہمیں ایک دِن ملا دے گا
قیس یہ شعر دِل میں واپس رَکھ
پگلے یہ سب کا دِل دُکھا دے گا
Not yet rated

No Comments

Add a comment:

Code
*Required fields